!جمہوریت اور آزادی: عزت، احترام اور انصاف

 

بقلم: رضا ہارون

 

پاکستان کو آزاد ہوئے ستر برس ہونے کوہیں، لیکن کیا عوام آزاد ہیں ؟ کیا یہاں جمہوری نظام ہے؟ کیا بنیادی انسانی حقوق ہر شہری کو حاصل ہیں؟ اگر ان تین سوالات کا جواب ہاں میں ہے تو پھر سب ٹھیک ہے، لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر سوال تو ہو گا، آواز بھی اٹھے گی، تنقید بھی ہو گی، احتجاج بھی ہو گا، اختلافات بھی رہیں گے۔ ایک شہری کی بنیادی ضروریات، پینے کا صاف پانی، صفائی ستھرائی کا انتظام، صحت کا نظام، معیاری تعلیم، سڑکیں، تفریحی پارکس، سیوریج و نکاسئ آب کا مناسب انتظام، امن و امان کا مسئلہ، روزگار، آلودگی سے پاک ماحول، سستا اور فوری انصاف، عوام کی اپنے منتخب نمائندوں تک بآسانی رسائی۔۔۔ حقائق ہمیں کچھ اور بتاتے ہیں، دیہی علاقوں کی بات تو ایک طرف یہاں تو شہری علاقوں میں تعلیم کا کوئی مناسب انتظام حکومت کی جانب سے نہیں، صحت کے مراکز تباہ حال ، پارکس کچرے کنڈی بن چکے، پانی عدم دستیاب اور صاف پانی کی خواہش تو بھول ہی جائیں تو بہتر ہے، سیوریج کا ناقص نظام، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر،جن سے وبائی امراض پھیل رہے ہیں، انصاف ہے بھی اگر تو کم ازکم غریب کی رسائی اس تک ناممکن اور سستا اور فوری تو بالکل نہیں، ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم، وغیرہ وغیرہ۔

 

ایک غریب خاندان جس کی ماہانہ آمدنی بیس ہزار روپے تک ہو ا،سے ہر ماہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ آیا وہ اپنے بچوں کو دودھ پلائے یا پینے کا صاف پانی، دونوں کی قیمت ایک۔۔۔وہ فیصلہ کرتا ہے اور بچے کو دودھ نہیں پلاتا، کیونکہ کیا فائدہ گندہ پانی پی کراس نے بیمار ہونا ہے اور پھر ایک اور خرچہ سر پر اس کے علاج معالجہ کا!لہٰذا رسک لیتا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے 43.7 فیصد پانچ سال تک کی عمر کے بچے غذا کی کمی اور پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے اسٹنٹنگ اور ویسٹنگ کا شکار ہیں، یعنی جسامت اور وزن ان کی عمر اور قد کی مناسبت سے انتہائی کم ہے۔ایسے بچوں کی بڑی تعداد کا تعلق بلوچستان اورسندھ سے ہے۔ اسی طرح ڈھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے اور جو جاتے ہیں ان کی ایک بڑی تعداد پرائمری تک تعلیم حاصل کر کے سکول چھوڑ دینے پر مجبور، باقی رہ جانے والوں کی ایک بڑی تعداد مڈل پاس کرنے کے بعد سکول کو خیرباد کہہ دیتی ہے۔ ہماری حکومتیں تعلیم اور صحت کے معاملے میں آنے والی نسل کو فیل کر رہی ہیں۔ اسی طرح نومولود بچوں کی اموات اور کمسنی میں وفات پا جانے والے بچوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔ جہاں ملک کا آئین تعلیم اور صحت کی گارنٹی دیتا ہو اور حکومت وقت کی یہ ذمہ داری لگاتا ہو کہ ایک ایک شہری کی جان و مال، عزت و آبرو اور ان کے بچوں کی نگہداشت کی ذمہ داری ریاست کی ہے، وہاں اتنی بڑی تعداد میں ہماری نسلوں کی بربادی کا سامان ہو رہا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 38 (a) (b) (c) (d) (e)میں ریاست کی بنیادی ذمہ داری ایک عام شہری کی سماجی اور معاشی ترقی اورخوشحالی کا خیال رکھنا اور عملاً ان کے لئے اقدامات اٹھاناشامل ہے۔

جمہوریت کی تعریف کیا ہے؟ ذرا غریب والدین سے معلوم کریں۔ پانچ برس میں ایک دن جمہوریت کا اور باقی کے چار سال تین سو چونسٹھ دن حکمرانوں، مراعات یافتہ سیاستدانوں اور بیورو کریسی کے نام۔ منتخب حکمرانوں کے پاس عوام کے لئے وقت نہیں، عوام کے مسائل حل کرنے میں دلچسپی نہیں، بڑے بڑے پراجیکٹ لگائے جا رہے ہیں، لیکن ایک عام شہری کو بہتر زندگی گزارنے اور معیاری سروس مہیا کرنے کا کوئی انتظام نہیں۔ جمہوریت میں نظام کی کامیابی، میرٹ، قابلیت اور اہلیت کی بنیاد پر فیصلوں میں پوشیدہ ہے۔جو سیاسی جماعت اپنے اندر قیادت ایک عام آدمی کو نہیں دلا سکتی، وہ معاشرے میں کیا بہتری لائے گی؟اکثر جماعتوں میں وراثتی قیادت کا نظام رائج ہے اور ان پارٹیوں کے قابل اور اہل ترین فرد کو بھی یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کا حق ایک درمیانی سطح کی ذمہ داری تک ہی محدود ہے اور اس سے آگے جانے کے لئے خاندانی تعلقات اور پہچان ضروری شرط ہے۔ سینیارٹی اور اہلیت کو بنیادی اہمیت ہونی چاہئے، مگر ایسا رواج ہی نہیں۔ الغرض معاشرے میں حاکم اور غلام کے تصور پر نظام قائم کیا گیا ہے۔ہمیں آزاد ہوئے ستر برس ہونے کو ہیں، لیکن ہمارا تصورِسیاست غلامی کی بنیاد پر قائم ہے۔ ایک عہد گزر گیا اور دو نسلیں اس نظام میں بنیادی تبدیلی لانے میں ناکام رہیں ہیں۔ کیا نسلی سیاست، لسانی سیاست، برادری کی سیاست، خاندانی سیاست، قومیتی سیاست، نام نہاد مذہبی سیاست، فرقہ وارانہ بنیادوں پر کی جانے والی سیاست، صوبائی تعصب کی سیاست ۔۔۔ ہمیں ہمارے حقوق دلا سکی ہیں؟

جمہوریت کی عملی شکل دیکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں رائج بلدیاتی نظام کا جائزہ لیا جائے کہ حکمران جمہوریت کی نرسری، یعنی مقامی حکومتوں کو اختیارات منتقل کیوں نہیں کرتے، جبکہ آئین کا آرٹیکل A140 واضح طور پر صوبائی حکومتوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ منتخب مقامی حکومتوں کا قیام عمل میں لائیں گے اور انہیں مکمل بااختیار بناتے ہوئے سیاسی، مالی اور انتظامی اختیارات دیں۔ عام شہری کا احساس شراکت کہاں سے آئے گا اور وہ کیوں مایوس ہوکر فرسٹریشن کا شکارنہیں ہو گا۔اختیارات اور وسائل کی عدم مرکزیت ہی جمہوریت کاتصور ہے۔

اب تک کا مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ جو جماعتیں عوامی مقبولیت کے سہارے اقتدار میں آئیں، ان سب نے عوام کے حقوق کا سودا کیا، ذاتی مفاد حاصل کئے، ملک کے اندر کم اور ملک کے باہر زیادہ وقت گزارا، یہ عوام کے سامنے تو ایک دوسرے کے شدید مخالف، لیکن بند کمرے میں ایک دوسرے کے رازدار اور ساتھ نبھانے والے۔ سیاسی جماعتوں نے اپنے مینڈیٹ کا سستا سودا کیا، بنیادی مطالبات یا ووٹ حاصل کرنے اور عوام کے جذبات ابھارنے کے لئے استعمال کیا۔ یہاں کون کس کا احتساب کرے گا، سب ایک دوسرے کو سہارا دے کر ایک دوسرے کی بدعنوانی چھپا کر اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں۔ مایوس اور نامراد رہ جاتا ہے تو بے چارہ ووٹر، جب اسے کچھ نہیں ملتا۔۔۔ لیکن اس مایوسی کوبھی شاید لوگوں نے اپنا مقدر سمجھ کرقبول کر لیا ہے اور اپنی قسمت بدلنے کی امید ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ورلڈ بینک کی پاکستان پر نومبر کی رپورٹ آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے، ان کے مطابق کراچی اب رہنے کے قابل شہر نہیں رہا اور مسائل کی ایک طویل فہرست شائع کی گئی ہے۔ غیرذمہ داری کی انتہا ہے کہ ایک سات سالہ بچہ گجر نالے میں گر کر ڈوب جاتا ہے اور اڑتالیس گھنٹے گزر جانے کے بعد صوبائی اور شہری حکومت نہ تو کوئی تیزی دکھاتی ہے اور نہ ہی اس معصوم کی لاش ہی نکالنے کا مناسب انتظام کر پاتی ہے اور جواب وہی پرانا کہ مشینری نہیں، اختیارات نہیں، وسائل نہیں، وغیرہ وغیرہ۔۔۔ جب ہے ہی کچھ نہیں تو انتخابات کس بات پر لڑے تھے، کیوں عوام کی امید باندھی کہ ان کے مسائل حل ہو جائیں گے، کیوں اس وقت یہ نہیں بتایا کہ ہم ایک بے اختیار منتخب نمائندے ہوں گے اور برائے نام عہدیدار کہلائیں گے ۔۔۔کم از کم احتجاجاً استعفا تو دے ہی سکتے ہیں، اس مفلوج اور اپاہج بلدیاتی نظام کے خلاف آواز تو اٹھائی جا سکتی ہے۔عوام کو بے وقوف بنانا ایک بات، لیکن اتنا بھی نہیں کہ جس نظام میں آپ کے پاس قانوناً اختیار ہی نہیں، وہاں کیا ہر سا ل آپ صوبائی حکومت سے اختیارات اور وسائل کی بھیک ہی مانگیں گے یا عملی طور پر ملک کی تمام صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھے ممبران قانون سازی کر کے اختیار دلوانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

پاکستان ایک خوبصورت، قدرتی و انسانی وسائل اورقیمتی معدنیات سے مالامال ملک ہے، اس کی جغرافیائی حیثیت بھی دفاعی اور معاشی اعتبار سے ایک اہم خطے کی ہے۔اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو تباہی و بربادی اور غلامی سے نجات دلوانا چاہتے ہیں، اگر ہم گزرے برسوں کے تجربات کو سامنے رکھیں اور آنے والے دنوں کو پُرامید ہو کر دیکھیں تو پھر غلطی دہرانے سے کام نہیں چلے گا۔۔۔ تین تین چار چار بار باری لے کر دھوکہ دینے والوں سے کام نہیں چلے گا۔ ایک سے زائد بار حکومت کرنے والی پارٹیوں اور پرانی قیادتوں پر بھروسہ کرنے سے کام نہیں چلے گا۔ حد تو یہ ہے کہ برسوں سے سیاست کرنے والی جماعتوں، خصوصاً اقتدر میں رہنے والی جماعتوں کے عوامی نعرے تک نہیں بدلے، وہی پچاس سال پرانے نعرے۔۔۔مگر کچھ حاصل وصول نہیں۔۔۔اس سے بھی اب کام نہیں چلے گا، بار بار قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبر بننے والوں کے اپنے حلقے بنیادی ضرورتوں سے محروم تو انہیں ایک بار پھر منتخب کرنے سے کام نہیں چلے گا۔نظام کو بدلنا ہے، اپنی قسمت کو بدلنا ہے، اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو آج لکھنا ہے، اپنے شہروں اور دیہاتوں کو ترقی دینی ہے، اپنی زندگی اور زیست کو بہتر بنانا ہے، اپنے بچوں کی تعلیم اور صحت کو محفوظ بنانا ہے ۔۔۔ تو پھر اپنا حصہ ایک نئی جدوجہد میں ڈالیں اور آغاز کریں ایک نئے دور کا، جہاں ہم پاکستان کے آئین اور قانون کے تحت ایک ایک شہری کو اس کے بنیادی حقوق مہیا کر سکیں، امن و امان کو بہتر بنا سکیں، معاشی استحکام لا سکیں، تجارت کو فروغ دے سکیں، زراعت کو مستحکم کریں، خوراک کو محفوظ کریں، غذا تک ہر ضرورت مند کی رسائی ہو، پینے کا صاف پانی ہو۔ بلدیاتی مسائل حل کرنا علاقائی سطح پر مضبوط اور بااختیار مقامی حکومتوں کے ذریعے یو سی لیول تک فنڈز کی بلا روک ٹوک فراہمی سے ہی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ فوری اور سستے انصاف تک ہر شہری کی رسائی ہو، ایک مضبوط اور متحد قوم کو پروان چڑھایا جائے تاکہ تعمیر وطن ہو اور ملک میں خوشحالی آئے۔ یہ سب ممکن ہے اگر ایک ایک عام آدمی ہمت کرے اور اپنے حق کے لئے کھڑا ہو۔۔۔ ہمیں اٹھنا ہو گا اپنی عزت، احترام اور انصاف کی خاطر۔ ایسے ہی چلتا رہا تو زیادہ دن نہیں چلے گا۔ صرف الیکشن کے روز ووٹ ڈالنے سے کام نہیں چلے گا 150 سخت اور کڑا عوامی احتساب روزانہ کی بنیاد پر اپنے نمائندوں کا اور عملی طور پر پاکستان، پاکستانیت اور وطن پرستی کو مثال بنا کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہو گا۔ کام مشکل ضرورہے، ناممکن نہیں۔عوام جب تک اپنے مینڈیٹ کے ٹھیکیداروں کا احتساب خود اپنے ووٹ کے صحیح استعمال سے نہیں کریں گے، تبدیلی نہیں آئے گی۔ وعدے اور نعرے بہت ہوئے۔۔۔ ’’اپنے آنے والے کل کو بدلنے کے لئے اپنے آج کو بدلیں‘‘۔