عوام کے مسائل کے حل تک پیچھے نہیں ہٹیں گے، وقت کی کوئی قید نہیں ہے مصطفی کمال
یہ احتجاجی تحریک دنوں ہفتوں کی نہیں مسائل کے حل تک جاری رہے گی
دھرنا نہیں احتجاجی تحریک کا آغاز کر رہے ہیں لوگوں کے مسائل حل کیلئے بغیر حکومت نہیں چل سکتی ہم چلنے بھی نہیں دیں گے، مصطفی کمال
آکراچی کے مسائل حل کیلئے ہمارے 16اہم مطالبات ہیں، مصطفی کمال
کراچی پریس کلب میں پرہجوم اور انتہائی اہم پریس کانفرنس خطاب

کراچی ()پاک سرزمین پارٹی کے چیئر مین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ہمارا مقصد اقتدار نہیں عوام کی خدمت کرنا ہے آج سے تحریک کا آغاز کردیا ہے جینا مرنا اس تحریک سے وابستہ ہے اور عوام کے حقوق غضب کرنے والی حکومت کو نہیں چلنے دینگے شہر کو لوٹ مار سے بچانے کے لیے جدوجہد جاری رہی گی ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کل سے پانی کی لائینیں بچھانے سمیت دیگر انفراسٹریکچرشروع

۔ 1 – فی الفور کے فور فیز ٹو کا اعلان کیاجائے
۔ 2 – کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ کو میئر آفس کے حوالے کیا جائے
۔ 3 – کچرا اٹھانے کے لیے پانچ گاربیچ ٹرانسفر اسٹیشن بنائے جائیں
۔ 4 – میئر کو واٹر بورڈ کا چیئرمین بناکر اختیارات دیئے جائیں
۔ 5 – کراچی میں بسوں کی قلت پوری کی جائے
۔ 6 – کے۔ الیکٹرک نے اس شہر کو سالہ سال سے زائد بلنگ کی مد میں سو ارب سے زائد لوٹے وہ واپس کرنے ہونگے
۔ 7 – کے ڈی اے کو بھی مئیر کے ماتحت کیا جائے
۔ 8 – کراچی کے روڈ اور دیگر منصبوں سمیت اسپتالوں کو سٹی حکومت کے حوالے کیا جائے
۔ 9 – کراچی کے پارک بھی سٹی حکومت کے ماتحت کیے جائیں
۔ 10 – صوبائی فنانس کمیشن فی الفور تشکیل دیا جائے
۔ 11 – روڑ انفرااسٹریچکر اتھارٹی کو ختم صوبائی مالیاتی کمیشن قائم کیا جائے
۔ 12 – ڈسٹرکٹ کیڈر کی بنیاد ڈالی جائے

۔ 13 – لینڈ گریبنگ کا خاتمے کے لیے سزا کا تعین کیا جائے

۔ 14 – حیدراباد کے لیے پیکج کا اعلان کیا جائے

۔ 15 – سندھ کے تمام اضلاع کے یوسی اور ڈسٹرکٹ چیئرمین کو وسائل منتقل کیے جائیں

 ۔ 16 – میئر اور ڈپٹی میئر کو با اختیار بنایا جائے

،ان خیالات اظہار انہو ں نے کراچی پریس کلب میں پرہجوم اور انتہائی اہم پریس کانفرنس خطاب کر تے ہوئے کہی۔ اس موقع پی ایس پی کے صدر انیس قائم خانی، سینئر وائس چیئر مین انیس ایڈوکیٹ، ڈاکٹر صغیر احمد، وائس چیئر مین وسیم آفتاب، افتخار رندھاوا، اشفاق منگی دیگر پی ایس پی تمام مرکز ی ذمہ داران بھی موجود تھے

 

انہوں نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل شروع کرنے جارہے ہیں ہماری آخری سانسوں تک اس تحریک کو لے کر جائیں گے اورعوام کے مسائل کے حل تک پیچھے نہیں ہٹیں گے، وقت کی کوئی قید نہیں ہے ہم اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کریں گے انہوں نے کہاکہ ہماری املاک و پیٹرول پمپ قبضہ نہیں ہوا تھا سابقہ جماعت میں عوام کے مسائل حل نہیں کر پارہے تھے اس لیے سیٹیں چھوڑیں،ہمارے پاس وہاں رہتے ہوئے اتنی طاقت نہیں تھی کہ آواز اٹھاتے آج مسائل کا انبار لگا ہوا ہے شہر کے عوام بد حالی کا شکار ہیں انہوں نے کہاکہ2008 کے الیکشن میں ہم پی پی پی کے ساتھ حکومت بناتے ہیں گورنر، اور وزیر اسی جماعت کے تھے انہوں نے کہاکہ نظامت کے دور میں بھی واٹر بورڈ اور کے بی سی اے چھینا گیا لیکن اس کیلئے میں نے مذاہمت کیانہون نے کہاکہ پیپلزپارٹی کے خلاف زبردست پریس کانفرنس کی جاتی اور صبح پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے رحمان ملک کا استقبال کیاجاتا، 2013 کے الیکشن میں حکومت میں نہ جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا ڈپارٹمنٹ چھینے جاتے رہے اور ایم کیو ایم خاموشی سے سب حوالے کرتی رہی الطاف حسین نے اپنے آپ کو بچانے کیلئے کراچی کے عوام کے مینڈیٹ کو بیچ دیا را کی فنڈنگ کا پتا چلنے کے بعد مینڈیٹ کو گروی رکھ دیا گیا اورپیپلزپارٹی ایم کیو ایم کیلئے اچھا شگون ثابت ہوتی ہے

 

انہو ں نے کہاکہ بجلی نہ پید ہے، لاکھوں کے بل، پانی اور سیوریج کے مسائل ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا تک نہیں کراچی اور پاکستان کے عوام کا سوچ کر واپس آئے اور آج ان کیلئے جدوجہد شروع کی ہے ان لوگو کو سلام جنہوں نے ہماری آواز ہر لبیک کیا اور ایک سال میں ہی ایس پی ایک بڑی جماعت بن کر ابھری لوگوں سے یہ نہیں کہوں گا کہ میرے پاس ایم پی اے ایم این اے نہ نہیں آپ کے مسائل کیسے حل کروں انہون نے کہاکہ اپنے مسائل کے حل کیلئے کیا الیکشن کا انتظار کریں گے حیدرآباد، کراچی اور سندھ کے لوگوں نے ہمیں اپنا مینڈیٹ دے دیا ہے ہماری نشاندہی اور خطوط لکھے جانے کے باوجود اداروں اور حکومت نے کسی مسئلے کی جانب توجہ نہیں دی انہون نے کہاکہ ملک کے مخدوش حالات کی وجہ سے اپنے احتجاج کو موخر کیا تھا لیکن آج سے اپنے لوگوں کے حقوق و مسائل کے حل کیلئے احتجاجی تحریک کا آغاز کررہے ہیںیہ احتجاجی تحریک دنوں ہفتوں کی نہیں مسائل کے حل تک جاری رہے گی ہماری احتجاجی تحریک کے مختلف مرحلے ہوں گے اورجس کو ہمارے احتجاج میں آنا ہے وہ آسکتا ہے کسی کو زبردستی اپنے پاس نہیں بلائیں گے انہوں نے کہاکہ اپنے عوام کے حقوق کیلئے اپنی جان بھی قربان کرسکتا ہوں مصطفی کمال اور انیس قائم خانی پریس کلب کے سامنے بیٹھیں گے اللہ کی مدد اور عوام کی حمایت ہمارے ساتھ ہے۔

 

انہون نے کہاکہ دھرنا نہیں احتجاجی تحریک کا آغاز کر رہے ہیں لوگوں کے مسائل حل کیلئے بغیر حکومت نہیں چل سکتی ہم چلنے بھی نہیں دیں گے انہون نے کہاکہ گھروں سے کچرا اٹھوانے، صاف پانی اور معاشی تعلیم اور سستی بجلی فراہم کرنے کیلئے یہ احتجاج کیا جارہا ہے ہم حکومت گرانے کیلے نہیں آئے لیکن عوام کے مسائل حل کریں اوت سالوں حکومت کریں انہون نے کہاکہ کوٹہ اور گرانٹ کا مسئلہ پرانا ہوگیا 30 سالوں سے عوام نے جنہیں مینڈیٹ دیا وہ سوٹ پہن کر وسائل نہ ہونے کا رونا روتے ہیں انہون نے کہاکہ41 فیصد شہر میں پانی کی سپلائی کا نظام موجود نہیں ہے سندھ حکومت فی الفور کل صبح سے پانی کے انفراسٹرکچر کیلئے کام کا آغاز کرے 550 ملین گیلن پانی کراچی کو دھابیجی سے ملتا ہے سندھ کو 36370 ملین گیلن پانی وفاق کی جانب سے ملتا ہے انہون نے کہاکہ کراچی سندھ کی آبادی کا 50 فیصد ہے، کراچی کو سندھ کے پانی کا 1.5 فیصد ملتا ہے۔ انہون نے کہاکہ کراچی کے اوپر سب اپنا حق جتاتے ہیں، پاکستان کے تمام صوبوں کے لوگ کراچی میں رہتے ہیں کراچی کی رگوں سے خون چوسنے والوں اس شہر کو پانی دواورحکمرانوں نے اس شہر کا پانی روک رکھا ہے کراچی میں k4 سے 240 ملین گیلن پانی ملے گا 650 ملین گیلن پانی کو آج بھی شارٹ فال ہے کافور کے بعد بھی کراچی کی پانی کی ضرورت پوری نہیں ہو پائے گی فی الفور کے فور فیز ٹو کا اعلان کیاجائے انہون نے کہاکہ کسی پلاننگ کی ضرورت نہیں نظامت کے دور میں 1000 فٹ کوریڈور بنا کر گیا یہ تمام منصوبے مکمل ہوگئے تب بھی کراچی میں پانی نہیں پہنچ پائے گا شہر میں پانی کی سپلائی کا نظام ڈالنا چاہیے تاکہ گھر گھر میں پانی پہنچ سکے صرف پانی کے مسئلے کیلئے ایک پریس کانفرنس ناکافی ہے،

 

انہو ن نے کہاکہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ایک گاربیج اسٹیشن کی لاگت 200 ملین ڈالر ہے سندھ حکومت وفاق کی مدد سے شہر 5 اسٹیشن بنائے شہر کے ہر حصے سے کچرا اٹھاکر چند منٹوں میں گاربیج اسٹیشن پہنچ سکے 44 ڈالر فی ٹن کے حساب سے بورڈ نے معاہدہ کیا ہے، اپنے دور میں 20 ڈالر میں یہ معاہدہ کیا تھاانہو ن نے کہاکہ حکومت سندھ کے لوگوں نے اپنا کمیشن پکڑ کو یہ کام ختم کردینا ہے کراچی میں وہ ہورہا ہے جو یہاں کی آئندہ آنے والی نسلیں بھی اس ختم نہیں کرسکیں گی انہون نے کہاکہ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بنائی گی اور ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ کو اس میں ضم کردیا گیا ایک شخص کو ان تمام ڈیپارٹمنٹس کا ہیڈ بنادیاگیاجس جگہ پر ایک منزلہ گھر بنانے کی اجازت نہیں تھی وہاں 2 منزلہ عمارتیں تعمیر کی جار ہی ہے جو جگہیں کمرشل نہیں تھیں رشوت کے عیوض اسے کمرشل کرکے عمارتیں بنا دی گئیں انہون نے کہاکہ جو ان چیزوں کو روکنے والا ادارہ تھا اسے ایک شخص کے ماتحت کر دیا گیا 120 گز کا گھر نہیں گرا سکتے ان عمارتوں کو کیس گرائیں گے روڈ پلان اور پارکنگ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی جیبیں بھری گئیں انہون نے کہاکہ بنے بنائے اداروں کو تباہ کردیا گیافی الفور کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ کو میئر آفس کے حوالے کیا جائے انہو نے کہاکہ کراچی کیلئے فوری طور پر ٹرانسپورٹ کا نظام صحیح کیا جائے،گرین لائین منصوب وفاق کا منصوبہ ہے اس پر کام چل رہا ہے انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت کے کسی بھی منصوبے پر کام نہیں ہورہا ہے سندھ حکومت ایکشن لے ورنہ جتنے دن گزرتے چلے جائیں گے ہمارے رویے بھی تبدیل ہوتی جائیں گے

 

انہون نے کہاکہ مانز ٹرانزٹ بنانا وزیر اعظم اور وزیر اعلی کا نہیں میئر کا کام ہے انہوں نے کہاکہ کے الیکٹرک نے بھی اس شہر کے لوگوں کے ساتھ نہ انصافی کی، پیک آووز کے ریٹ سے کراچی کے عوام کو بلنگ کرکے100 ارب روپے کراچی کے لوگوں سے لوٹ کر چلے گئے انہون نے کہاکہ کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں شہری حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے، کراچی کے میگا پروجیکٹ میں ایک وزیر نے پی ڈی لگا کر سارے منصوبے حوالے کر دیئے گئے ہیں کس قانون کے تحت پارک کو صوبائی حکومت اپنے انڈر میں لے کر ایک پرائیویٹ فرم کے حوالے کر رہی تھی؟ پرونشل فنانس کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ این ایف سی ایوارڈ سے ملنے والا حصہ شیرو میں تقسیم ہوسکے انہوں نے کہاکہ شہر میں لینڈ گریبنگ، چائنا کٹنگ کا کام ہوتا رہا لیکن کوئی پکڑا نہیں گیا کوئی سزا نہیں ملی سرکاری اور نجی املاک ہر قبضہ ہوتا چلا گیا، اس کام کی سرپرست حکومت سندھ ہے،انہون نے کہاکہ سندھ کے تمام اضلاع کے یوسی اور ڈسٹرکٹ چیئرمین کو وسائل منتقل کیے جائیں میئر اور ڈپٹی میئر کو با اختیار بنایا جائے، کراچی سمیت حیدرآباد اور دیگر شہروں میں بھی اختیارات منتقل کیے جائیں اورسندھ حکومت سے اختیارات لے کر پنجاب بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں یہ کام کریں گے انہون نے کہاکہ حالات بدلنے کیلئے فرشتے نہیں آئیں گے سب خود بدلنا پڑے گا مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کو احتجاج کرنے کیلئے رحمان ملک کی کال نہیں آئے گی لوگوں کے مسئلے حل نہیں کرو گے تو حکومت کو دفن کر دیں گے انہون نے کہاکہ فاروق ستار صاحب سے پوچھتا ہوں کہ بدحالی کے دور میں سٹی حکومت کو ملنے والے پیسے میں سے 6 فیصد کمیشن لیا بھری میٹنگ میں مئیر کراچی نے پیسے وصول کیے، اس بدحالی کے دور میں بھی پیسے لے رہے ہیں ایسے کردار پر کون انہیں اختیارات دے گا، لیکن ہم اختیارات لین گے اور ایسے لوگوں سے بھی نمٹ لیں گے انہون نے کہاکہ اداریے کے لوگوں کا بھی حق بھی مئیر کراچی لے اڑے، افسران کو اگلی دفعہ حصّہ دینے کی یقینی دہانی کرائیانہوں نے کہاکہ کراچی، حیدرآباد، سکھر، میر پورخاص سمیت تمام پاکستان میرا ہے،سندھ حکومت ایک کام بھی کرے گی اس کی پزیرائی کریں گے