مصطفی کمال پاکستان کی عوام کی آخری امید
[email protected] تحریر اسد شیخ

پاکستان کو قائم ہوئے 70سال ہوچکے ہیں ان 70سالوں میں پاکستان کہاں کھڑا ہے کبھی یہ ہم نے سوچھا ہے’’نہیں‘‘ ان 70 سالوں میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا؟ اگر ہم اپنا محاسبہ کریں تو حقائق بہت تلخ اور افسوسناک نظر آتے ہیں ان ستر سالوں میں لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ پاکستان اب تک لوگوں کو ضروری بنیادی سہولیات کیوں نہیں دے سکا، غربت کیوں کم نہ ہوئی، مڈل کلاس کیوں نہ ابھر سکی، روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی دوسرے ممالک میں روز گار کمانے پر کیوں مجبور ہیں، نہ بجلی، گیس، پانی سمیت علاج معالجہ اور تعلیم کی کوئی معیاری سہولت، توانائی بحران تو عشروں سے مقدر بنا ہوا ہے اور آج بھی پاکستان اسی طرح موجود ہے جس طرح ہمارے آباؤ اجداد چھوڑ کر گئے تھے بلکہ اس سے بھی بدتر حالات ہیں پورے پاکستان کو چھوڑ کر میں صرف ایک صوبے کی بات کرلیتا ہوں، صوبہ سندھ جہاں پر 30 سالوں سے پیپلزپارٹی حکمرانی کررہی ہے۔ جس نے سندھ کو لوٹ مار کرپشن اور سرکاری ملازمتیں فروخت کرنے کے سوا کچھ نہیں دیا اسی طرح متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی حیدرآباد اور سندھ کے شہری علاقوں میں حکمرانی کی جس میں ماسوائے سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کے دور کے علاوہ کوئی قابلِ ذکر ترقیاتی کام نہیں ہو سکے اور ان کے جانے کے بعد متئدہ کے میئر ہونے کے باوجود آج کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے شہری علاقے کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئے ہیں ہے جو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ پی پی پی نے دیہی سندھ اور ایم کیوایم نے شہری سندھ کی عوام کو اپنی کارکردگی سے سخت مایوس کیا ہے اور سندھ بھر کی عوام کو غربت، مفلسی، رسوائی، تنہائی اور محرومیوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔
ایم کیو ایم بہت تیزی سے بکھر رہی ہے اور خود اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے اس خلا کو پر کرنے کے لیے پاک سر زمین پارٹی اور دیگر جماعتیں متحرک ہیں کراچی کی ان بستیوں میں جو کبھی متحدہ کے زیر اثر ہوتی تھیں اور کسی حد تک اب بھی ہیں وہاں پر پاک سر زمین پارٹی بہت تیزی سے فعال ہورہی ہے لیاقت آباد، ناظم آباد، گلبہار، نیو کراچی، نارتھ کراچی، نارتھ ناظم آباد، ملیر، لانڈھی کورنگی اور شاہ فیصل کالونی جیسے علاقوں میں یو سی کی سطح تک دفاتر قائم کئے جارہے ہیں پاک سر زمین پارٹی کراچی میں پیدا ہونے والی خلاء کو پر کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے جس میں کافی حد تک کامیاب دکھائی دیتی ہے۔ جبکہ دوسری جانب پی ایس پی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال کا سوچ، نظریہ، طرز سیاست، پارٹی کا نام، جھنڈا، پالیسی اور انتخابی نشان سمیت سب کچھ ایم کیو ایم سے بالکل الگ اور منفرد ہے جو عوام کو اپنی طرف جوک در جوک کھینچ رہا ہے۔ مصطفیٰ کمال اس موقف پر اٹل دکھائی دیتے ہیں کہ مہاجر سیاست کرنے والے مہاجروں کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ پاکستانی عوام نے حالیہ چند سالوں میں بھرپور سیاسی شعور کا ثبوت دیتے ہوئے مصطفیٰ کمال کی آواز پر لبیک کہا ہے جس کی بنیاد پر 2018 کے الیکشن میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاک سر زمین پارٹی اقتدار آکر عوام کے دیرینہ مسائل کو حل کرکے پاکستان اور پاکستانی عوام کی تقدیر بدل دیں گے کیونکہ مصطفی کمال پاکستان کی عوام کی آخری امید ہیں اب وقت آگیا ہے کہ سندھ کی عوام جاگیرداروں اور وڈیروں کے خوف سے نکل کر آئندہ عام انتخابات میں پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم سے نجات حاصل کرکے پاک سر زمین پارٹی کو خدمت کا موقع دے اور اپنی تقدیر بدلے۔